ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / خلیجی خبریں / مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ:زخمیوں کی طبی رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹروں کو عدالت نے گواہی کے لیئے طلب کیا

مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملہ:زخمیوں کی طبی رپورٹ مرتب کرنے والے ڈاکٹروں کو عدالت نے گواہی کے لیئے طلب کیا

Fri, 30 Nov 2018 22:55:01    S.O. News Service

ممبئی:30/نومبر(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مالیگاؤں 2008ء بم دھماکہ معاملے میں بھگواء ملزمین کی جانب سے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والوں کی طبی رپورٹ تسلیم نہیں کیئے جانے کے بعد خصوصی عدالت نے طبی رپورٹ تیار کرنے والے ڈاکٹروں کو گواہی کے لیئے طلب کیا ہے نیز انہیں اس تعلق سے باقاعدہ سمن جاری کیا گیا اور3 دسمبر سے ان کو یکے بعد دیگر گواہی کے لیئے طلب کیا گیا ہے۔موصولہ اطلاعات کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت کے جج ونود پڈالکر نے مالیگاؤں کے فاران اسپتال، نور اسپتال، علی اکبر اسپتال، سٹی کئیر اسپتال، بالاجی ایکسیڈینٹ اسپتال و دیگر اسپتالوں کے ان ڈاکٹروں کے نام سمن جاری کیا ہے جنہوں نے بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کیا تھا اور اس کے بعد ان کی میڈیکل رپورٹیں مرتب کی تھیں۔عدالت نے قومی تفتیشی ایجنسی NIAکے وکیل اویناس رسال کی درخواست پر متذکرہ ڈاکٹروں کو سمن جاری کرتے ہوئے انہیں تین دسمبر سے ممبئی میں گواہی کے لیئے طلب کیا ہے ۔اسی درمیان ممبئی میں متاثرین کی نمائندگی کرنے والی تنظیم جمعیۃعلماء مہاراشٹر (ارشد مدنی) قانونی امدادکمیٹی کے سربراہ گلزاراعظمی نے کہاہے کہ بھگواء ملزمین نے جان بوجھ کر میڈیکل رپورٹ پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے انہیں تسلیم نہیں کیا ہے تاکہ معاملے کو طول دیاجاسکے ، عام طور پر میڈیکل رپورٹ کو بغیر کسی تنازعہ کے قبول کرلیا جاتا ہے جس سے عدالت کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچتا ہے کیونکہ اوریجنل میڈیکل رپورٹ پہلے سے ہی عدالتی ریکارڈ میں موجود ہوتی ہیں ۔گلزار اعظمی نے مزید کہا کہ اس معاملے کے کلیدی ملزمین بالخصوص کرنل پروہیت کو سپریم کورٹ سے راحت حاصل نہیں ہونے کے بعد اس نے یہ حربہ آزمایا ہے لیکن نچلی عدالت کے مسلسل دباؤ کی وجہ سے بھگواء ملزمین نا چاہتے ہوئے بھی عدالتی کارروائی میں حصہ لینے پر مجبور ہیں۔


Share: